ابنا: موصولہ رپورٹ کے مطابق عراقي پارليمنٹ ميں صدر دھڑے نے اعلان کيا ہے کہ امريکي فوج کے انخلا کے بعد اب مہدي مليشيا کے باقي رہنے کي کوئي ضرورت نہيں رہ گئي ہے اور طے پايا ہے کہ اس کي تحليل کے بعد اس کے ارکان، ملک ميں امن و اتحاد کے ليے کام کريں گے-
صدر گروہ نے کہا ہے کہ مہدي مليشيا مکمل طور سے ہتھيار رکھ دے گي- صدر گروہ کے سربراہ مقتدي صدر نے دو ہزار آٹھ ميں المہدي مليشيا کي سرگرمياں معطل کر دي تھيں اور دھمکي دي تھي کہ اگر امريکي فوجي دو ہزار گيارہ کے آخر تک عراق سے نہيں نکلے تو يہ مليشيا قابض فوجيوں کے خلاف پھر سے مسلحانہ جد و جہد شروع کر دے گي- صدر گروہ نے اعلان کيا ہے کہ المہدي مليشيا جن محرکات کے تحت مسلحانہ جد و جہد کر رہي تھي، وہ امريکي فوج کے انخلا کے ساتھ ہي ختم ہوگئے ہيں-واضح رہے کہ امريکي فوجي بغداد واشنگٹن سيکورٹي معاہدے کے تحت گزشتہ سال کے اواخر ميں عراق سے باہر نکل گئے تھے ........
/169